نئی دہلی /31مارچ۔ حکومت نے مردم شماری 2027 کے پہلے مرحلے میں 11 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں گھروں کی فہرست سازی کا کام یکم اپریل سے شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں مردم شماری کے پہلے مرحلے میں اپریل سے ستمبر کے درمیان ملک بھر کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں مکانات کی گنتی کی جائے گی دوسرے مرحلے میں افراد سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی، جس کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت نے مردم شماری 2027 کے لیے 11,178 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا ہے۔ہندوستان کے رجسٹرار جنرل اور مردم شماری کمشنر مرتیو نجے کمار نارائن نے دارالحکومت میں مردم شماری 2027 پر ایک پریس کا نفرنس کے دوران بتایا کہ اس بار مردم شماری میں لوگوں کی ذات سے متعلق ڈیٹا بھی جمع کیا جائے گا۔ مردم شماری ایکٹ 1948 کے تحت لوگوں کی انفرادی معلومات کو خفیہ رکھا جائے گا اور انہیں کسی فائدے یا عدالتی کارروائی کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔ ٹیکنالوجی کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے، جس میں لوگ ‘سیلف اینو مریشن (خود شماری) بھی کر سکیں گے۔ اس کے لیے لوگوں کو اپنے علاقے میں مردم شماری شروع ہونے سے 15 دن پہلے ڈیجیٹل ذرائع سے اپنی معلومات درج کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے ، لیکن ہر صورت میں مردم شماری کا عملہ ہر گھر میں ذاتی طور پر جا کر معلومات جمع کرے گا۔ مردم شماری کمشنر نے کہا کہ دنیا کی یہ سب سے بڑی مردم شماری دو مرحلوں میں منعقد کی جائے گی، جس کا پہلا مر حلہ یکم اپریل 2026 سے شروع ہو گا۔ پہلی بار مردم شماری ڈیجیٹل شکل میں ہو گی اور پہلی بار خود شماری کا آپشن بھی دستیاب ہو گا۔یکم اپریل سے انڈمان اور نکوبار جزائر ، دہلی، گوا، کرناٹک، کندیپ، میزورم ، اُڑیسہ اور سکم میں 1 سے 15 اپریل تک خود شماری اور 16 اپریل سے 15 مئی 2026 تک مکانات کی فہرست سازی اور مکانات کی گنتی کا کام مکمل کیا جائیگا۔
