مالیگاؤں/12نومبر۔ کئی دنوں سے چرچا میں رہا جلسہ یلغار جو کہ انڈین سیکولر لارجیسٹ پارٹی کے زیر اہتمام منعقد کیا گیاتھا۔جس میں مقررین نے اپنے اپنے انداز میں مخالفین پر جم کر تنقید یں کیں ۔وہیں جلسہ میں خصوصاً مجلس اتحادالمسلمین کے اسدالدین اویسی، امتیاز جلیل اور
مفتی اسماعیل قاسمی کو خصوصی طورپر نشانہ بنا گیا۔ اور ان پر طرح طرح کے الزامات تھوپے گئے ۔ جس میں سب سے زیادہ موضوع بحث بات یہ رہی کہ جلسہ کے ایک مقرر حافظ انیس اظہر نے شاہ نور سید نامی شخص کے حوالے سے کہاکہ ان افراد کا تعلق فرقہ مہدیہ سے ہے۔ اس کے ردّ عمل میں پہلے ڈاکٹر خالد پرویز نے الزامات کو جھٹلاتے ہوئے ویڈیو بیان جاری کیا اور وضاحت پیش کی۔ معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا ۔بلکہ کل منگل کی صبح مجلس کے درجنوں عہدیداران کے ہمراہ ڈاکٹر خالد کی قیادت میں ایک وفدنے DYSP بروال صاحب سے ملاقات کی اور ان کے روبرو تمام روداد پیش کرتے ہوئے شکایتی مکتوب پیش کیا ۔وہیں مقرر کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈاکٹر موصوف نے بتایاکہ ”مقرر نے مفتی اسماعیل قاسمی کے عقیدے اور اسرائیل سے تعلقات کولے کر غلط بیانی کی ۔انہوں نے کہاتھا کہ علماءکرام کو ان کے عقیدہ کی جانچ اسی وقت کرلینی چاہئے تھی جب وہ اسرائیل کے شہر تل ابیب میں 8گھنٹہ موجود تھے۔ اسی کے ساتھ اسدالدین اویسی پر ایک ویڈیو کے حوالے سے بہائی فرقہ کا الزام لگایا گیا جس کو تقویت پہنچانے کاکام جلسہ یلغار میں کیا گیا ۔مقررین کا سیدھا سیدھا یہ کہنا تھا کہ یہ لوگ اسلام سے خارج ہےں ۔ ان تمام پر غلط الزامات پر ہم نے پولس میں شکایت درج کرائی ہے ۔ “اس موقع پر کلیم دلاور، تنویر ذوالفقار، ایا ز ہلچل، اعظم انصاری، عارف سلوٹی، فروغ شیخ، عبدالماجد حاجی، ایڈوکیٹ گریش بھورسے، عبدالخالق سوپر نشاط، راشد ایوب،فیضان میگھراج، راجو گائیڈ، جمال ناصر، الیاس شیخ ، محمد سلمان وغیرہ بہ نفس نفیس موجود تھے۔
