انڈین سیکولر لارجسٹ پارٹی کی جانب سے یومِ جمہوریہ پر پرچم کشائی
”پردے کے پیچھے بہت کچھ چل رہا ہے اور امکان ہے کہ ہار جیت کا فیصلہ ایوان میں ہی ہوگا۔“
مالیگاؤں/26 جنوری یومِ جمہوریہ کے موقع پر انڈین سیکولر لارجسٹ پارٹی کی جانب سے ہزار کھولی رابطہ آفس پر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ پارٹی کے روحِ رواں آصف شیخ رشید کے ہاتھوں رسمِ پرچم کشائی انجام دی گئی۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان اور ذمہ داران موجود تھے۔پرچم کشائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف شیخ رشید نے کہا کہ “ملک کو آزادی ہمارے مجاہدین، بزرگوں، علماءکرام اور قائدین کی قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں ہر سماج کے لوگوں کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کا پورا اختیار دیا گیا ہے، لیکن آج ملک میں ایسے کالے قوانین بنائے جا رہے ہیں جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خاص طور پر ایک ہی دھرم کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو نہایت افسوسناک ہے۔“انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں ہرے اور بھگوا رنگ کو لے کر جاری بحث محض بیان بازی تک محدود ہے، جبکہ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست اور ملک کی ترقی، پسماندگی کے خاتمے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ لائحہ عمل تیار کیا جائے۔میئر الیکشن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے آصف شیخ رشید نے دعویٰ کیا کہ ”میئر بنانے کے لیے ہمیں صرف تین سیٹوں کی ضرورت ہے، چونکہ آج ہماری پارٹی شہر کی سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، اس لیے دیگر پارٹیوں کو ہماری حمایت کرنی چاہیے۔ کئی پارٹیوں نے زبانی حمایت کی بات کہی ہے، تاہم تاحال کسی نے باضابطہ اعلان نہیں کیا۔“انہوں نے انکشاف کیا کہ سیکولر فرنٹ کے پارلیمنٹری بورڈ کے وفد نے پہلی مرتبہ مجلس اتحاد المسلمین کے ایم ایل اے مفتی اسماعیل قاسمی سے ملاقات کر کے حمایت کی دعوت دی ہے، لیکن اس سلسلے میں ابھی تک MIM کی جانب سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ “پردے کے پیچھے بہت کچھ چل رہا ہے اور امکان ہے کہ ہار جیت کا فیصلہ ایوان میں ہی ہوگا۔“آخر میں آصف شیخ رشید نے واضح کیا کہ سیکولر فرنٹ میئر اور ڈپٹی میئر دونوں عہدوں کے لیے امیدوار کھڑا کرے گا اور انہیں پورا یقین ہے کہ کامیابی سیکولر فرنٹ کے حصے میں آئے گی۔ تاہم اگر میئر نہیں بن پایا تو پارٹی مضبوط اور مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔
