مالیگاؤں/۵نومبر۔ گذشتہ روز چھوٹے بچوں کے درمیان لڑائی کے بعد گولی باری اور وحشیانہ مار پیٹ کے بعد عائشہ نگر حدود میں زبردست ہنگامہ برپا ہوگیاتھا۔ اس معاملے میں گرفتار ملزم عادی مجرم ہے اور اس کے خلاف شہر کے مختلف تھانوں میں سنگین مقدمات
درج ہیں۔ پولس نے ملزم کے قبضے سے دو دیسی پستول اور آٹھ زندہ کارتوس برآمد کر لیے ہیں۔یہ دل دہلا دینے والا واقعہ عائشہ نگر علاقے میں صوفیہ مسجد کے قریب پیش آیا تھا۔ اسی گلی میں رہنے والے دو نوجوان لڑکوں میں تین ماہ قبل کسی وجہ سے لڑائی ہوئی تھی۔ مسئلہ حل ہو چکا تھا۔ تاہم اپنے غصے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک لڑکے باپ مہتاب علی ،دس بارہ دوستوں کے ساتھ دوسرے لڑکے کے والد لئیق احمد محمد کامل کے گھر گیا جس کی لڑائی ہوئی تھی۔گرفتار ملزم مہتاب علی شوکت علی عرف مہتاب دادا عادی مجرم ہے۔ ان کے خلاف عائشہ نگر، آزاد نگر اور چھاؤنی پولس تھانوں میں قتل، اقدام قتل، ڈکیتی، ہنگامہ آرائی، نقصان پہنچانے جیسے 10 سنگین مقدمات درج ہیں۔ مالیگاو¿ں اپر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے اسپیشل اسکواڈ کے سب انسپکٹر پاراجی واگھموڈے، پولس افسر سچن بیداڈے، دنیش شراوتے، راکیش جادھو، اکشے چودھری، رام نسال، راکیش اوبالے، نیلیش نکم، ہیمنت گلبیلے اور پردیپ بہرام نے خطرناک ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے اس کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی ہے۔معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ضلع پولیس سربراہ بالا صاحب پاٹل، ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس تیگبیر سنگھ سندھو، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولس سدھارتھ بروال نے فوری طور پر دو پولیس ٹیموں کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے روانہ کیا۔ مرکزی ملزم مہتاب علی کو دو گھنٹے کے اندر اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ فرار ہونے کی تیاری کر رہا تھا۔
اسی معاملے میں مہتاب دادا کے ساتھی وسیم اختر سلیم احمد (ساکن حکیم نگر) کو بھی اس معاملے میں گرفتار کرگیا ہے۔ جہاں اُسے کل کورٹ میں پیش کیا گیا پھر مہربان جج نے 6نومبر تک اُسے پولس کسٹڈی میں بھیجنے کے احکامات صادر کئے۔ اُس پر الزام ہے کہ اُس رات جھگڑے میں وسیم اختر بھی پیش پیش تھا۔
