ہاتھ سے لکھے پرانے پیدائشی سرٹیفکیٹ بھی قابل قبول
مالیگاؤں۔ آدھار کارڈ بنوانے یا اس میں نام و پتہ درست کروانے کے لیے پریشان شہریوں کے لیے ایک بڑی اور راحت بخش خبر ہے۔ مہاراشٹر کے محکمہ پیدائش و اموات نے آدھار کے ممبئی ریجنل دفتر کو خط لکھ کر کہا ہے کہ 2016 سے پہلے کے بنے ہوئے تمام پرانے آف لائن سپیدائشی سرٹیفکیٹژ (جنم داخلے) کو آدھار کے کاموں کے لیے مکمل طور پر قبول کیا جائے۔ دراصل ریاست میں 2016 سے پہلے پیدائش کا داخلہ ہاتھ سے لکھ کر، یا مقامی پنچایت، میونسپل کونسل اور میونسپل کارپوریشن کے ذریعے ملتا تھا۔ 2016 کے بعد سے مرکزی حکومت کا آن لائن پورٹل شروع ہوا، لیکن 2016 سے پہلے کے لاکھوں پرانے داخلوں کے ڈیجیٹائزیشن کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ اس وجہ سے جب لوگ آدھار سینٹر جاتے تھے، تو ان کے پرانے کاغذی داخلے کو قبول نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں نئے آن لائن سرٹیفکیٹ بنوانے کے لیے سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے پڑتے تھے۔ عوام کی اسی مصیبت کو دیکھتے ہوئے متعلقہ محکمہ نے واضح کر دیا ہے کہ آن لائن اور آف لائن داخلے کا فارمیٹ الگ ضرور ہے، لیکن دونوں یکساں طور پر درست اور قانونی ہیں۔ اس لیے آدھار سینٹرز پر پرانے داخلوں کو مسترد نہ کیا جائے۔ اس قدم سے عام لوگوں کو ہونے والی پریشانی اور سرکاری دفاتر کی دھکم پیل سے بڑی راحت ملے گی۔
