مالیگاؤں۷؍اگست۔ بامبے ہائیکورٹ کی سخت برہمی اور واضح احکامات کے بعد مہاراشٹر میں ایم بی بی ایس اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے اپنی ریاست گیر ہڑتال فوری طور پر واپس لے لی ہے۔ عدالت نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے ڈاکٹروں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی کہ مریضوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر احتجاج کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ ہائیکورٹ بینچ نے دوران سماعت واضح کیا کہ اگر ڈاکٹر فوراً کام پر واپس نہیں لوٹتے تو حکومت کو ان کی تنخواہیں روکنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ عدالت کے اس سخت موقف اور آئندہ کے لائحہ عمل کی یقین دہانی کے بعد انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن اور مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریزیڈنٹ ڈاکٹر نے عدالت کے سامنے ہی ہڑتال ختم کرنے کا باقاعدہ اعلان کیا جس کے بعد صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں طبی خدمات کی بحالی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ڈاکٹروں کا یہ شدید احتجاج مہاراشٹر حکومت کے اس متنازع فیصلے کے خلاف تھا جس کے تحت ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایک مختصر مدت کا سرٹیفکیٹ کورس کروا کر مہاراشٹر میڈیکل کونسل میں رجسٹر کرنے اور ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی جا رہی تھی۔ ایم بی بی ایس ڈاکٹروں کا موقف تھا کہ یہ اقدام نہ صرف طبی شعبے کی توہین ہے بلکہ مریضوں کی جان کے لیے بھی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ عدالت نے اس حساس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں ڈاکٹروں کی ایسی اچانک ہڑتالوں کو روکنے اور اس کے متبادل حل تلاش کرنے کے لیے معاونینِ عدالت بھی مقرر کر دیے ہیں جبکہ کیس کی اگلی تفصیلی سماعت کے لیے آٹھ ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
